ملک کی آواز میں
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
کلام: ظفرگورکھپوری · محفل: ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری) · 2025-11-21
«اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا
اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنادشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا