دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
کلام: ظفرگورکھپوری
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دےاک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے
اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئےلازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دےاک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے
اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئےلازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا
اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنادشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نویدوہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی