5 اشعار

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا

Ashk-e-gham aankh se bahar bhi nahin aane ka

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا

«اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا

اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنادشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا

ہائے کیا ہم نے تڑپنے کا صلہ پایا ہےایسا آرام جو آ کر بھی نہیں آنے کا

عہد غالبؔ سے زیادہ ہے مرے عہد کا کرباب تو کوزے میں سمندر بھی نہیں آنے کا

سبزہ دیوار پہ اگ آیا ظفرؔ خوش ہو لوآگے آنکھوں میں یہ منظر بھی نہیں آنے کا

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں