ملک کی آواز میں
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
کلام: مجروح سلطانپوری · محفل: میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری · 2026-01-31
«ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کو
شراب ہو ہی گئی ہے بقدر پیمانہبہ عزم ترک نچوڑا جب آستینوں کو