ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
کلام: مجروح سلطانپوری
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کو
شراب ہو ہی گئی ہے بقدر پیمانہبہ عزم ترک نچوڑا جب آستینوں کو
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری
مہمان شاعر: مجروح سلطانپوری
ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کو
شراب ہو ہی گئی ہے بقدر پیمانہبہ عزم ترک نچوڑا جب آستینوں کو
ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرےجو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرے
بہت ہی تلخ نوا ہوں مگر عزیز وطنمیں کیا کروں جو ترا درد بے قرار کرے