8 اشعار

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

Dara ke mauj-o-talatum se hamnasheenon ko

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

«ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کو

شراب ہو ہی گئی ہے بقدر پیمانہبہ عزم ترک نچوڑا جب آستینوں کو

جمال صبح دیا روئے نو بہار دیامری نگاہ بھی دیتا خدا حسینوں کو

ہماری راہ میں آئے ہزار مے خانےبھلا سکے نہ مگر ہوش کے قرینوں کو

کبھی نظر بھی اٹھائی نہ سوئے بادۂ نابکبھی چڑھا گئے پگھلا کے آبگینوں کو

یہی جہاں ہے جہنم یہی جہاں فردوسبتاؤ عالم بالا کے سیربینوں کو

ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواںچراغ راہ کئے خوں چکاں جبینوں کو

تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروحؔچل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں