ملک کی آواز میں
دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے
کلام: اسعد بدایونی · محفل: کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی · 2026-04-22
«دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔
دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہےکہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے
مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیںسو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے