مقرر · کو ہوسٹ

ملک

@malikafra1989

145
پیش کردہ کلام
108
محفلوں میں شرکت
ملک کی آواز میں

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے

کلام: اسعد بدایونی · محفل: کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی · 2026-04-22

«دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہےکہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے

مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیںسو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے Zulf-e-barham mein kham zyada hai تنویر دانش
  2. 02 مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے Mujh ko apne gumaan ka dukh hai زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا Bazm-e-jaanan mein jab apna jaana hua زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 04 در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر Dar khol ke mat jhankna hamdam mere andar اسماعیل راز
  5. 05 تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش Tum waqt pe kar jaate ho paiman faramosh مبارک عظیم آبادی
  6. 06 جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا Jo dil ho jalwa-gah-e-naz us mein gham nahin hota کامل شطاری آواز میں دستیاب
  7. 07 مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے Mujhe de ke dil jaan khona pada hai رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  8. 08 ہر مصرعے نوں چِتھ کے گانا پیناں ایں Har misre nun chith ke gana peena ain پنجابی شعرا