دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے
کلام: اسعد بدایونی
دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہےکہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے
مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیںسو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہےکہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے
مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیںسو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے