4 اشعار

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے

Dil-e-wahshi tujhe ek baar phir zanjeer karna hai

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے

«دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہےکہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے

مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیںسو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے

کماں داروں کو اس سے کیا غرض پہنچے کہ رہ جائےانہیں تو بس اشارے پر روانہ تیر کرنا ہے

ابھی امکان کے صفحے بہت خالی ہیں دنیا میںمجھے بھی ایک نوحہ جا بہ جا تحریر کرنا ہے

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں