ملک کی آواز میں
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
کلام: سیماب اکبر آبادی · محفل: ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی · 2026-01-19
«جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں
درد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیازمیرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں