5 اشعار

جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں

Jis jagah jama tere khak nasheen hote hain

جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں

«جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں

درد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیازمیرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں

ان کی محفل سے تصور کا تعلق ہے ہمیںآنکھ کر لیتے ہیں جب بند وہیں ہوتے ہیں

تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوستاب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں ہوتے ہیں

اعتکاف ان دنوں ہے فرض سنا ہے سیمابؔرمضاں آ گئے مے خانہ نشیں ہوتے ہیں

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں