جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
کلام: سیماب اکبر آبادی
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں
درد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیازمیرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں
درد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیازمیرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں
وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئےورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لئے
اے خزاں تو شوق کے سارا چمن برباد کرچند پھانسیں چھوڑ جا میری رگ جاں کے لئے