ملک کی آواز میں
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرےترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے
کہاں چھوڑ آئی میری تیرہ بختیوہ راتیں نور کی وہ دن سنہرے