5 اشعار

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے

Khushi ki aarzoo kya dil mein thehre

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے

«خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرےترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے

کہاں چھوڑ آئی میری تیرہ بختیوہ راتیں نور کی وہ دن سنہرے

مری جانب نہ دیکھو مسکرا کرہوئے جاتے ہیں دل کے زخم گہرے

نظر پر تیرگی چھائی ہوئی ہےمگر آنکھوں میں ہیں سپنے سنہرے

جدھر بھی دیکھتا ہوں کیفؔ ادھر ہیگھرے ہیں غم کے بادل گہرے گہرے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں