خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
کلام: کیف احمد صدیقی
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرےترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے
کہاں چھوڑ آئی میری تیرہ بختیوہ راتیں نور کی وہ دن سنہرے
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرےترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے
کہاں چھوڑ آئی میری تیرہ بختیوہ راتیں نور کی وہ دن سنہرے
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیالیکن زمین خشک کو کچھ بھی نہ تج گیا
گھر جا کے موتیوں کی طرح جگمگا اٹھیمیں اپنے ساتھ لے کے جو دریا کی رج گیا