مقرر · کو ہوسٹ

ملک

@malikafra1989

145
پیش کردہ کلام
108
محفلوں میں شرکت
ملک کی آواز میں

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

کلام: کیفی اعظمی · محفل: کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی · 2026-01-14

«کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں

دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بارکچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے Zulf-e-barham mein kham zyada hai تنویر دانش
  2. 02 مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے Mujh ko apne gumaan ka dukh hai زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا Bazm-e-jaanan mein jab apna jaana hua زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 04 در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر Dar khol ke mat jhankna hamdam mere andar اسماعیل راز
  5. 05 تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش Tum waqt pe kar jaate ho paiman faramosh مبارک عظیم آبادی
  6. 06 جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا Jo dil ho jalwa-gah-e-naz us mein gham nahin hota کامل شطاری آواز میں دستیاب
  7. 07 مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے Mujhe de ke dil jaan khona pada hai رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  8. 08 ہر مصرعے نوں چِتھ کے گانا پیناں ایں Har misre nun chith ke gana peena ain پنجابی شعرا