ملک کی آواز میں
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
کلام: کیفی اعظمی · محفل: کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی · 2026-01-14
«کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں
دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بارکچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں