کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
کلام: کیفی اعظمی
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں
دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بارکچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں
دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بارکچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں
لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میںپھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میں
آج پھر ٹوٹیں گی تیرے گھر کی نازک کھڑکیاںآج پھر دیکھا گیا دیوانہ تیرے شہر میں