5 اشعار

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

Kya jaane kis ki pyaas bujhane kidhar gayin

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں

«کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں

دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بارکچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں

اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواںویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھےغم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں

پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہو رہےاک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں