ملک کی آواز میں
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں
کلام: ظفراقبال · محفل: مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال) · 2025-12-05
«نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوںسمجھ تو لیتا ہوں سارے نہیں سمجھتا ہوں
ترا چڑھا ہوا دریا سمجھ میں آتا ہےترے خموش کنارے نہیں سمجھتا ہوں