خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
کلام: ظفراقبال
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے
خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھیپہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے
خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھیپہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوںسمجھ تو لیتا ہوں سارے نہیں سمجھتا ہوں
ترا چڑھا ہوا دریا سمجھ میں آتا ہےترے خموش کنارے نہیں سمجھتا ہوں