8 اشعار

نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں

Nahin ki tere ishare nahin samajhta huun

نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں

«نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوںسمجھ تو لیتا ہوں سارے نہیں سمجھتا ہوں

ترا چڑھا ہوا دریا سمجھ میں آتا ہےترے خموش کنارے نہیں سمجھتا ہوں

کدھر سے نکلا ہے یہ چاند کچھ نہیں معلومکہاں کے ہیں یہ ستارے نہیں سمجھتا ہوں

کہیں کہیں مجھے اپنی خبر نہیں ملتیکہیں کہیں ترے بارے نہیں سمجھتا ہوں

جو دائیں بائیں بھی ہیں اور آگے پیچھے بھیانہیں میں اب بھی تمہارے نہیں سمجھتا ہوں

خود اپنے دل سے یہی اختلاف ہے میراکہ میں غموں کو غبارے نہیں سمجھتا ہوں

کبھی تو ہوتا ہے میری سمجھ سے باہر ہیکبھی میں شرم کے مارے نہیں سمجھتا ہوں

کہیں تو ہیں جو مرے خواب دیکھتے ہیں ظفرؔکوئی تو ہیں جنہیں پیارے نہیں سمجھتا ہوں

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں