ملک کی آواز میں
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
کلام: احمد فراز · محفل: اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی) · 2025-12-25
«رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں» احمد فراز کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیںکہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں
بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھاگلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں