تمام دکھ ہے
کلام: نوشی گیلانی
تمام دکھ ہےہمیں خبر ہے
تمام دکھ ہےیہ زندگی کو جو آسمانوں کی وسعتوں سے
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
تمام دکھ ہےہمیں خبر ہے
تمام دکھ ہےیہ زندگی کو جو آسمانوں کی وسعتوں سے
کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیںہمیں تو حکم ہے سرکار، چپ ہیں
کہانی کچھ بتانا چاہتی ہےمگر اس کے سبھی کردار، چپ ہیں
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیںکہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں
بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھاگلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں