4 اشعار

رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں

Rifaqaton mein pashemaniyan toh hoti hi hain

رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں

«رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں» احمد فراز کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیںکہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں

بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھاگلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں

اداسیوں کا سبب کیا کہیں بجز اس کےیہ زندگی ہے پریشانیاں تو ہوتی ہیں

فرازؔ بھول چکا ہے تیرے فراق کے دکھکہ شاعروں میں تن آسانیاں تو ہوتی ہیں

— احمد فراز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں