ملک کی آواز میں
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیالیکن زمین خشک کو کچھ بھی نہ تج گیا
گھر جا کے موتیوں کی طرح جگمگا اٹھیمیں اپنے ساتھ لے کے جو دریا کی رج گیا