7 اشعار

سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا

Sau baar yoon garajne ko baadal garaj gaya

سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا

«سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیالیکن زمین خشک کو کچھ بھی نہ تج گیا

گھر جا کے موتیوں کی طرح جگمگا اٹھیمیں اپنے ساتھ لے کے جو دریا کی رج گیا

ہر تاجور کی تاجوری زیر خاک ہےلیکن ابھی کلاہ انا کا نہ کج گیا

جب بھی ترے خیال کی خوشبو مہک اٹھیکمرہ سہاگ رات کے پھولوں سے سج گیا

دو مہر و ماہ ایک ہی قالب میں ڈھل گئےاکثر شب وصال کا جب ایک بج گیا

زاہد میں آج تک نہ حرم تک گیا مگرکوئے صنم میں روز ہی کرنے کو حج گیا

برسوں سے فن کی کشت تھی بنجر پڑی ہوئیاے کیفؔ تیرے خون سے کیا کیا اپج گیا

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں