ملک کی آواز میں
وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے
کلام: ساجد رحیم · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01
«وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے» ساجد رحیم کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔
وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھےیہ جو سلجھا سلجھا کلام ھے ؛ ترے نام ھے....!!!
وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ؛ مرے چاؤ تھےیہ یقیں جو مست خرام ھے ترے نام ھے..!!