مقرر · کو ہوسٹ

ملک

@malikafra1989

145
پیش کردہ کلام
108
محفلوں میں شرکت
ملک کی آواز میں

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے

کلام: ساجد رحیم · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01

«وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے» ساجد رحیم کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھےیہ جو سلجھا سلجھا کلام ھے ؛ ترے نام ھے....!!!

وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ؛ مرے چاؤ تھےیہ یقیں جو مست خرام ھے ترے نام ھے..!!

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے Zulf-e-barham mein kham zyada hai تنویر دانش
  2. 02 مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے Mujh ko apne gumaan ka dukh hai زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا Bazm-e-jaanan mein jab apna jaana hua زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 04 در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر Dar khol ke mat jhankna hamdam mere andar اسماعیل راز
  5. 05 تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش Tum waqt pe kar jaate ho paiman faramosh مبارک عظیم آبادی
  6. 06 جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا Jo dil ho jalwa-gah-e-naz us mein gham nahin hota کامل شطاری آواز میں دستیاب
  7. 07 مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے Mujhe de ke dil jaan khona pada hai رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  8. 08 ہر مصرعے نوں چِتھ کے گانا پیناں ایں Har misre nun chith ke gana peena ain پنجابی شعرا