مقرر

ایم سعید

@masayeed7

111
پیش کردہ کلام
95
محفلوں میں شرکت
ایم سعید کی آواز میں

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے

کلام: عمیر نجمی · محفل: نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی) · 2026-01-01

«کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گےآنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گے

جن کے دل جوڑتے یہ عمر بتا دی میں نےجب مروں گا تو یہ احباب اکٹھے ہوں گے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے Aab-o-dana tera ae bulbul-e-zaar uthta hai مبارک عظیم آبادی
  2. 02 آپ کی یاد عمر بھر آئی Aap ki yaad umar bhar aai ناشاد کانپوری
  3. 03 سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں Sukhanvarī kā bahāna banātā rahtā huuñ اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  4. 04 خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے Khauf-e-khasara mujh ko na kal tha na aaj hai راکب مختار آواز میں دستیاب
  5. 05 روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا Roshni phaili to sab ka rang kaala ho gaya آزاد گلاٹی آواز میں دستیاب
  6. 06 تم یاد مجھے آ جاتے ہو Tum yaad mujhe aa jaate ho بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں Andesha haye roz-e-mukafat aur main شبنم شکیل آواز میں دستیاب
  8. 08 آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے Aap se mil ke hum kuch badal se gaye, sher padhne lage gungunane lage جاوید اختر آواز میں دستیاب