ایم سعید کی آواز میں
کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے
کلام: عمیر نجمی · محفل: نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی) · 2026-01-01
«کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔
کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گےآنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گے
جن کے دل جوڑتے یہ عمر بتا دی میں نےجب مروں گا تو یہ احباب اکٹھے ہوں گے