ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
کلام: عمیر نجمی
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے
رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمیقہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے
رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمیقہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے
کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گےآنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گے
جن کے دل جوڑتے یہ عمر بتا دی میں نےجب مروں گا تو یہ احباب اکٹھے ہوں گے