6 اشعار

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے

Kuch safine hain jo gharqab ikatthe honge

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے

«کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گےآنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گے

جن کے دل جوڑتے یہ عمر بتا دی میں نےجب مروں گا تو یہ احباب اکٹھے ہوں گے

منتشر کر کے زمانوں کو کھنگالا جائےتب کہیں جا کے مرے خواب اکٹھے ہوں گے

ایک ہی عشق میں دونوں کا جنوں ضم ہوگاپیاس یکساں ہے تو سیراب اکٹھے ہوں گے

مجھ کو رفتار چمک تجھ کو گھٹانی ہوگیورنہ کیسے زر و سیماب اکٹھے ہوں گے

اس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا میںجس سمندر میں یہ سیلاب اکٹھے ہوں گے

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں