مقرر

شہزاد

@shah__zad987

40
پیش کردہ کلام
43
محفلوں میں شرکت
شہزاد کی آواز میں

یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں

کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21

«یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیںگم شدہ لوگ ہمیں خواب میں مل جاتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کا معیار خدا جانے مگرشہر میں اچھے گنہگار بھی مل جاتے ہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 زندگانی حسین ہے تو سہی Zindagani haseen hai to sahi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  2. 02 عشق سر پہ سوار تھا یارو Ishq sar pe sawar tha yaaro زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو Mohabbat ghair se ki hai to mera muddaa le lo مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  4. 04 بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے Begana-e-wafa tera shewa hi aur hai مبارک عظیم آبادی
  5. 05 اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں Ab to woh maa'il-e-jafa bhi nahin ناشاد کانپوری
  6. 06 مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں Meri aarzoo, mera muddaa koi aur us ke siwa nahin کامل شطاری آواز میں دستیاب
  7. 07 منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی Munh na dhaanko ab to soorat dekh li رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  8. 08 تن دا ماس کھوائی رکھنا سوکھا نہیں Tan da maas khowayi rakhna sookha nahin پنجابی شعرا