شہزاد کی آواز میں
یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں
کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21
«یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔
یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیںگم شدہ لوگ ہمیں خواب میں مل جاتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کا معیار خدا جانے مگرشہر میں اچھے گنہگار بھی مل جاتے ہیں