5 اشعار

یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں

Yeh jo hum alam-e-bedari mein khul jaate hain

یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں

«یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیںگم شدہ لوگ ہمیں خواب میں مل جاتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کا معیار خدا جانے مگرشہر میں اچھے گنہگار بھی مل جاتے ہیں

آنکھ چھلکی ہے اگر تیرے بچھڑنے پہ تو کیازلزلے آنے سے پربت بھی تو ہل جاتے ہیں

قبریں دھرتی پہ ہیں قدرت کی کشیدہ کاریلوگ مٹی کے اسی مٹی میں سل جاتے ہیں

چلتے پھرتے ہوئے غربت کے صحیفے اکثرہاتھ بٹوے میں چلا جائے تو کھل جاتے ہیں

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں