مقرر

آبدار خان

@youthforce_pk

13
پیش کردہ کلام
9
محفلوں میں شرکت
آبدار خان کی آواز میں

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے

کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12

«کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائےوہی منظر کہ جسے دیکھ نہ پائے ہائے

کیا پتہ ساری تمنائیں دھواں ہو گئی ہوںکچھ نکلتا ہی نہیں دل سے سوائے ہائے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں Misaal us ki kahan hai koi zamane mein جاوید اختر آواز میں دستیاب
  2. 02 دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں Dast-bardar agar aap ghazab se ho jayein جاوید اختر آواز میں دستیاب
  3. 03 میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو Main chahta hoon ke dil mein tera khayal na ho جواد شیخ آواز میں دستیاب
  4. 05 ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں Hamare haath mein kab saghar-e-sharab nahin اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  5. 06 اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے Agar woh apne haseen chehre ko bhool kar be-naqaab kar de اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  6. 07 غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں Gham-e-hijran ki tere paas dawa hai ke nahin پیر نصیرالدین آواز میں دستیاب
  7. 08 وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے Wahi zakhm sa wahi gard si wahi daagh se سعید شارق آواز میں دستیاب
  8. 09 توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں Tod sakoon na koi qufl, door kahin na ja sakoon سعید شارق آواز میں دستیاب