میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو
کلام: جواد شیخ
میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہوعجب نہیں کہ مری زندگی وبال نہ ہو
میں چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھےیہ ہر گھڑی ترے جانے کا احتمال نہ ہو
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہوعجب نہیں کہ مری زندگی وبال نہ ہو
میں چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھےیہ ہر گھڑی ترے جانے کا احتمال نہ ہو
کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائےوہی منظر کہ جسے دیکھ نہ پائے ہائے
کیا پتہ ساری تمنائیں دھواں ہو گئی ہوںکچھ نکلتا ہی نہیں دل سے سوائے ہائے