آبدار خان کی آواز میں
توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔
توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوںایسی گرہ لگا کے میں ہاتھ نہ پھر چُھڑا سکوں
اے مِرے ناتواں ملال! دیکھ رہا ہوں تیرا حالمرغِ طرب مِلے تو میں لا کے تجھے کھِلا سکوں