8 اشعار

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے

Kahaan hatta hai nigaahon se hataaye haaye

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے

«کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائےوہی منظر کہ جسے دیکھ نہ پائے ہائے

کیا پتہ ساری تمنائیں دھواں ہو گئی ہوںکچھ نکلتا ہی نہیں دل سے سوائے ہائے

یاد آتی ہوئی اک شکل پہ اللہ اللہدل میں اٹھتی ہوئی ہر ٹیس پہ ہائے ہائے

اس گلی جا کے بھی سجدہ نہ تمہیں یاد رہاصرف نظریں ہی جھکائے چلے آئے ہائے

ساری مشکل ہی نہاں ہے مری آسانی میںکون یہ خستہ سی دیوار گرائے ہائے

روز اک تازہ چلم بھر کے مجھے دے فرہاداور پھر قیس مرے پاؤں دبائے ہائے

دل کے بے کار دھڑکنے پہ کہاں خوش تھے میاںہم تو پھولے نہ سمائے بہ صدائے ہائے

جب وہ جائے تو مجھے کچھ بھی نہ بھائے جوادؔاور جب آئے تو کچھ آئے نہ جائے ہائے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں