آبدار خان کی آواز میں
وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔
وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سےترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے
کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میںیہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے