ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں
کلام: اختر شیرانی
ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیںہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں
جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیںوہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں
بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی
مہمان شاعر: اختر شیرانی
ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیںہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں
جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیںوہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں
اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دےتو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے
تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہےجو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے