غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں
کلام: پیر نصیرالدین
غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیںجاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں
وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیںجھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیںجاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں
وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیںجھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں