7 اشعار

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

Dukh fasana nahin ke tujh se kahein

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

«دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیںدل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

آج تک اپنی بیکلی کا سببخود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

بے طرح حال دل ہے اور تجھ سےدوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

ایک تو حرف آشنا تھا مگراب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

قاصدا ہم فقیر لوگوں کااک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

اے خدا درد دل ہے بخشش دوستآب و دانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

اب تو اپنا بھی اس گلی میں فرازؔآنا جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

— احمد فراز