احمد فراز کا کلام
- 01 برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرُبا سا Barsoñ ke ba'ad dekhā ik shakhs dilrubā sā آواز میں دستیاب
- 02 معاف کر مری مستی خدائے عز و جل Ma'āf kar mirī mastī Khudā-e-izz o jall آواز میں دستیاب
- 03 دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا Dost ban kar bhi nahin saath nibhane wala آواز میں دستیاب
- 04 اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون Ab ke rut badli to khushboo ka safar dekhega kaun آواز میں دستیاب
- 05 ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم Huwa hai tujh se bichhadne ke baad yeh maloom آواز میں دستیاب
- 06 یہ وفا تو ان دنوں کی بات ہے فراز Yeh wafa to un dinon ki baat hai Faraz آواز میں دستیاب
- 07 روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں Roog aise bhi gham-e-yaar se lag jaate hain آواز میں دستیاب
- 08 یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے Yeh soch kar ke gham ke khareedar aa gaye آواز میں دستیاب
- 09 رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں Rifaqaton mein pashemaniyan toh hoti hi hain آواز میں دستیاب
- 10 زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے Zindagi se yahi gila hai mujhe آواز میں دستیاب
- 11 یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں Yun hi mar mar ke jiyein waqt guzare jaein آواز میں دستیاب
- 12 یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی Ye kya ke sab se bayan dil ki haalaten karni آواز میں دستیاب
- 13 وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ Wahshaten badhti gain hijr ke azaar ke sath آواز میں دستیاب
- 14 اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا Us ne sukoot-e-shab mein bhi apna payam rakh diya آواز میں دستیاب
- 15 اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا Us ko juda hue bhi zamana bahut hua آواز میں دستیاب
- 16 تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہی Tujhe hai mashq-e-sitam ka malal waise hi آواز میں دستیاب
- 17 تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست Tujh se mil kar to ye lagta hai ke ae ajnabi dost آواز میں دستیاب
- 18 تیری باتیں ہی سنانے آئے Teri baaten hi sunane aaye آواز میں دستیاب
- 19 تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں Tere qareeb aa ke badi uljhanon mein hoon آواز میں دستیاب
- 20 سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں Suna hai log usay aankh bhar ke dekhte hain آواز میں دستیاب
- 21 سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے Silsile tod gaya wo sabhi jaate jaate آواز میں دستیاب
- 22 شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو Shola tha jal bujha hoon hawaain mujhe na do آواز میں دستیاب
- 23 ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے Saqiya ek nazar jaam se pehle pehle آواز میں دستیاب
- 24 سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی Samne us ke kabhi us ki sitaish nahin ki
- 25 روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں Rog aise bhi gham-e-yaar se lag jaate hain
- 26 رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ Ranjish hi sahi dil hi dikhane ke liye aa آواز میں دستیاب
- 27 قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے Qurbaton mein bhi judai ke zamane maange آواز میں دستیاب
- 28 قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا Qurbat bhi nahin dil se utar bhi nahin jaata آواز میں دستیاب
- 29 پھر اسی رہ گزار پر شاید Phir isi rahguzar par shayad آواز میں دستیاب
- 30 میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا Main to maqtal mein bhi qismat ka Sikandar nikla آواز میں دستیاب
- 31 کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے Kya aise kam-sukhan se koi guftugu kare آواز میں دستیاب
- 32 خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے Khamosh ho kyun, daad-e-jafa kyun nahin dete آواز میں دستیاب
- 33 کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو Kathan hai raahguzar, thodi door saath chalo آواز میں دستیاب
- 34 کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے Karun na yaad magar kis tarah bhulaun use آواز میں دستیاب
- 35 جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے Juz tere koi bhi din raat na jaane mere آواز میں دستیاب
- 36 جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے Jo ghair the woh isi baat par hamare hue آواز میں دستیاب
- 37 جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو Jis simt bhi dekhun nazar aata hai ke tum ho آواز میں دستیاب
- 38 جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے Jab bhi dil khol ke roye honge آواز میں دستیاب
- 39 اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں Is se pehle ke bewafa ho jaen آواز میں دستیاب
- 40 اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی Is qadar musalsal thin shiddaten judai ki آواز میں دستیاب
- 41 ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو Hui hai sham to aankhon mein bas gaya phir tu آواز میں دستیاب
- 42 ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا Hawa ke zor se pindar-e-bam-o-dar bhi gaya آواز میں دستیاب
- 43 ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے Har koi dil ki hatheli pe hai sehra rakhe آواز میں دستیاب
- 44 گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا Guftagu achhi lagi zauq-e-nazar achha laga آواز میں دستیاب
- 45 دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں Dukh fasana nahin ke tujh se kahein آواز میں دستیاب
- 46 دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا Dost ban kar bhi nahin saath nibhane wala آواز میں دستیاب
- 47 اول اول کی دوستی ہے ابھی Awwal awwal ki dosti hai abhi آواز میں دستیاب
- 48 عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا Ajab junoon musafat mein ghar se nikla tha آواز میں دستیاب
- 49 ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے Aise chup hain ke yeh manzil bhi kadi ho jaise آواز میں دستیاب
- 50 ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے Aisa hai ke sab khwab musalsal nahin hote آواز میں دستیاب
- 51 اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے Agarche zor hawaon ne daal rakha hai آواز میں دستیاب
- 52 ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں Abhi kuch aur karishme ghazal ke dekhte hain آواز میں دستیاب
- 53 اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے Ab shauq se ke jaan se guzar jaana chahiye آواز میں دستیاب
- 54 اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے Ab kya sochein kya halaat the kis kaaran yeh zeher piya hai آواز میں دستیاب
- 55 اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں Ab ke tajdeed-e-wafa ka nahin imkaan jaanan آواز میں دستیاب
- 56 اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں Ab ke hum bichhde to shayad kabhi khwabon mein milein آواز میں دستیاب
- 57 اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم Ab aur kya kisi se marasim badhaayein hum آواز میں دستیاب
- 58 عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو Aashiqi mein Mir jaise khwab mat dekha karo آواز میں دستیاب
- 59 آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا Aankh se door na ho dil se utar jaega آواز میں دستیاب