53 اشعار

معاف کر مری مستی خدائے عز و جل

Ma'āf kar mirī mastī Khudā-e-izz o jall

معاف کر مری مستی خدائے عز و جل

«معاف کر مری مستی خدائے عز و جل» احمد فراز کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

معاف کر مری مستی خدائے عز و جلکہ میرے ہاتھ میں ساغر ہے میرے لب پہ غزل

کریم ہے تو مری لغزشوں کو پیار سے دیکھرحیم ہے تو سزا و جزا کی حد سے نکل

ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دےتو آسماں سے اتر اور مری زمین پہ چل

میں پا بہ گل ہوں مگر چھو چکا منارۂ عرشسو تو بھی دیکھ یہ خاک و خشارہ و جنگل

بہت عزیز ہے مجھ کو یہ خاکداں میرایہ کوہسار یہ قلزم یہ دشت یہ دلدل

مرے جہاں میں زمان و مکان و لیل و نہارترے جہاں میں ازل ہے ابد نہ آج نہ کل

مرے لہو میں ہے برق تپاں کا جذب و گریزترے سبو میں مئے زندگی نہ زہر اجل

تری بہشت ہے دشت جمود و بہر سکوتمری سرشت ہے آشوب ذات سے بیکل

تو اپنے عرش پہ شاداں ہے سو خوشی تیریمیں اپنے فرش پہ نازاں ہوں اے نگار ازل

مجھے نہ جنت گم گشتہ کی بشارت دےکہ مجھ کو یاد ابھی تک ہے ہجرت اول

ترے کرم سے یہاں بھی مجھے میسر ہےجو زاہدوں کی عبادت میں ڈالتا ہے خلل

وہ سیر چشم ہوں میرے لیے ہے بے وقعتجمال حور و شراب طہور و شیر و عسل

گناہ گار تو ہوں پر نہ اس قدر کہ مجھےصلیب روز مکافات کی لگے بوجھل

کہیں کہیں کوئی لالہ کہیں کہیں کوئی داغمری بیاض کی صورت ہے میری فرد عمل

وہ تو کہ عقدہ کشا و مسبب الاسبابیہ میں کہ آپ معمہ ہوں آپ اپنا ہی حل

میں آپ اپنا ہی ہابیل اپنا ہی قابیلمری ہی ذات ہے مقتول و قاتل و مقتل

برس برس کی طرح تھا نفس نفس میراصدی صدی کی طرح کاٹتا رہا پل پل

ترا وجود ہے لا ریب اشرف و اعلیٰجو سچ کہوں تو نہیں میں بھی ارذل و اسفل

یہ واقعہ ہے کہ شاعر وہ دیکھ سکتا ہےرہے جو تیرے فرشتوں کی آنکھ سے اوجھل

وہ پرفشاں ہیں مگر غول شپرک کی طرحسو رائیگاں ہیں کہ جوں چشم کور میں کاجل

مرے لیے تو ہے سو بخششوں کی اک بخششقلم جو افسر و طبل و علم سے ہے افضل

یہی قلم ہے کہ جس کی ستارہ سازی سےدلوں میں جوت جگاتی ہے عشق کی مشعل

یہی قلم ہے جو دکھ کی رتوں میں بخشتا ہےدلوں کو پیار کا مرہم سکون کا صندل

یہی قلم ہے کہ اعجاز حرف سے جس کےتمام عشوہ طرازان شہر ہیں پاگل

یہی قلم ہے کہ جس نے مجھے یہ درس دیاکہ سنگ و خشت کی زد پر رہیں گے شیش محل

یہی قلم ہے کہ جس کی سریر کے آگےہیں سرمہ در گلو خونخوار لشکروں کے بگل

یہی قلم ہے کہ جس کے ہنر سے نکلے ہیںرہ حیات کے خم ہوں کہ زلف یار کے بل

یہی قلم ہے کہ جس کی عطا سے مجھ کو ملےیہ چاہتوں کے شگوفے محبتوں کے کنول

تمام سینہ فگاروں کو یاد میرے سخنہر ایک غیرت مریم کے لب پہ میری غزل

اسی نے سہل کیے مجھ پہ زندگی کے عذابوہ عہد سنگ زنی تھا کہ دور تیغ اجل

اسی نے مجھ کو سجھائی ہے راہ اہل صفااسی نے مجھ سے کہا ہے پل صراط پہ چل

اسی نے مجھ کو چٹانوں کے حوصلے بخشےوہ کربلائے فنا تھی کہ کارگاہ جدل

اسی نے مجھ سے کہا اسم اہل صدق امراسی نے مجھ سے کہا سچ کا فیصلہ ہے اٹل

اسی کے فیض سے آتش کدے ہوئے گلزاراسی کے لطف سے ہر زشت بن گیا اجمل

اسی نے مجھ سے کہا جو ملا بہت کچھ ہےاسی نے مجھ سے کہا جو نہیں ہے ہاتھ نہ مل

اسی نے مجھ کو قناعت کا بوریا بخشااسی کے ہاتھ سے دست دراز طمع ہے شل

اسی کی آگ سے میرا وجود روشن ہےاسی کی آب سے میرا ضمیر ہے صیقل

اسی نے مجھ سے کہا بیعت یزید نہ کراسی نے مجھ سے کہا مسلک حسین پہ چل

اسی نے مجھ سے کہا زہر کا پیالہ اٹھااسی نے مجھ سے کہا جو کہا ہے اس سے نہ ٹل

اسی نے مجھ سے کہا عاجزی سے مات نہ کھااسی نے مجھ سے کہا مصلحت کی چال نہ چل

اسی نے مجھ سے کہا غیرت سخن کو نہ بیچکہ خون دل کے شرف کو نہ اشرفی سے بدل

اسی نے مجھ کو عنایت کیا ید بیضااسی نے مجھ سے کہا سحر سامری سے نکل

اسی نے مجھ سے کہا عقل تہ نشینی ہےاسی نے مجھ سے کہا ورطۂ خرد سے نکل

اسی نے مجھ سے کہا وضع عاشقی کو نہ چھوڑوہ خواہ عجز کا لمحہ ہو یا غرور کا پل

اذیتوں میں بھی بخشی مجھے وہ نعمت صبرکہ میرے دل میں گرہ ہے نہ میرے ماتھے پہ بل

ہیں ثبت سینۂ مہتاب پر قدم میرےہیں منتظر مرے مریخ و مشتری و زحل

تری عطا کے سبب یا میری انا کے سببکسی دعا کا ہے موقعہ نہ التجا کا محل

سو تجھ سا ہے کوئی خالق نہ مجھ سی ہے مخلوقنہ کوئی تیرا ہے ثانی نہ کوئی میرا بدل

فرازؔ تو بھی جنوں میں کدھر گیا ہے نکلترا دیار محبت تری نگار غزل

قٹپک چکا ہے بہت تیری آنکھ سے خوں ناب

برس چکا ہے بہت تیرے درد کا بادلکچھ اور دیر ابھی حسرت وصال میں رہ

کچھ اور دیر ابھی آتش فراق میں جلکسی بہار شمائل کی بات کر کہ بنے

ہر ایک حرف شگوفہ ہر ایک لفظ کنول

— احمد فراز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں