12 اشعار

برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرُبا سا

Barsoñ ke ba'ad dekhā ik shakhs dilrubā sā

برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرُبا سا

«برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرُبا سا» احمد فراز کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرُبا سااب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھیں جھکی جھکی سیباتیں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں تھےبن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا

خوابوں میں خواب اُسکے یادوں میں یاد اُسکینیندوں میں گھل گیا ہو جیسے رَتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میںوہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادیاں دیںتازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئےکچھ زہر میں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر یوں ہوا کے ساون آنکھوں میں آ بسے تھےپھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہیں تھیبن جائے گا قیامت اک واقع ذرا سا

تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کےوہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دریا ہم زہر تھے کہ امرتناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہیں تھا پیاسا

ہم نے بھی اُس کو دیکھا کل شام اتفاقااپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

— احمد فراز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں