7 اشعار

اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون

Ab ke rut badli to khushboo ka safar dekhega kaun

اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون

«اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون» احمد فراز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کونزخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون

دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گےجس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون

زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئےتیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون

وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہےلوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون

ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنارات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون

آ فصیل شہر سے دیکھیں غنیم شہر کوشہر جلتا ہو تو تجھ کو بام پر دیکھے گا کون

ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فرازشہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون

— احمد فراز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں