شاعر

شیخ ابراہیم ذوق

Shaikh Ibrahim Zauq

26
منتخب کلام
26
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ اردو کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دہلی کے آخری مغل عہد میں شاعری کو دربار سے عوام تک مؤثر انداز میں پہنچایا۔ ان کی پیدائش اٹھارویں صدی کے اواخر میں دہلی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے حافظ غلام رسول شوق اور بعد ازاں شاہ نصیر دہلوی جیسے نامور اساتذہ سے شاعری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ذوقؔ نے کم عمری ہی میں اپنی فطری ذہانت، زبان پر قدرت اور محاوراتی سلاست کے باعث اہلِ ادب کی توجہ حاصل کر لی، جس نے آگے چل کر انہیں اپنے عہد کا نمایاں شاعر بنا دیا۔ذوقؔ کا اصل مقام مغل دربار میں اس وقت مستحکم ہوا جب وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استادِ سخن مقرر ہوئے اور بعد میں “ملکُ‌الشعرا” کے منصب پر فائز کیے گئے۔ درباری شاعری میں ان کی مہارت، خاص طور پر قصیدہ نگاری، بے مثال مانی جاتی ہے۔ انہیں سودا کے بعد اردو کا سب سے بڑا قصیدہ گو شاعر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے قصائد میں زبان کی چستی، لفظی شان، محاورے کی صحت اور عروض پر کامل گرفت نمایاں ہے۔ اسی دور میں مرزا غالب جیسے عظیم شاعر سے ان کی ادبی رقابت بھی مشہور رہی، تاہم اپنے عہد میں ذوقؔ کو عوامی اور درباری مقبولیت حاصل تھی۔شیخ ابراہیم ذوقؔ کی شاعری سادگی، روانی اور زبان کی فطری خوبصورتی کی نمائندہ ہے۔ اگرچہ ان کی غزلیں بھی اہم ہیں، مگر قصیدہ نگاری نے انہیں دوام بخشا۔ ۱۶ نومبر ۱۸۵۴ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا، اور بعد کے ہنگامہ خیز حالات میں ان کا کچھ کلام ضائع بھی ہو گیا۔ اس کے باوجود جو سرمایۂ سخن محفوظ رہا، وہ اردو ادب کی تاریخ میں ذوقؔ کے بلند مرتبے کی گواہی دیتا ہے۔ آج بھی ان کا نام اردو شاعری کی کلاسیکی روایت اور درباری ادب کی ایک مضبوط علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

منتخب اشعار

شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا

ہے مرا مرغ نظر پروانہ شمع طور کا

پورا کلام ‹

ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے

اجل کو جو طبیب اور مرگ کو اپنی دوا سمجھے

پورا کلام ‹
  1. 01 شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا Shauq-e-nazzara hai jab se is rukh-e-pur-noor ka آواز میں دستیاب
  2. 02 ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے Tere kuche ko woh beemar-e-gham dar-ul-shifa samjhe آواز میں دستیاب
  3. 03 آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا Aankhein meri talwon se woh mil jaaye toh achha آواز میں دستیاب
  4. 04 بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں Balaayein aankhon se un ki mudaam lete hain آواز میں دستیاب
  5. 05 سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے Sab ko duniya ki havas khwaar liye phirti hai آواز میں دستیاب
  6. 06 کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے Koi in tang dahano se mohabbat na kare آواز میں دستیاب