8 اشعار

اظہار

Izhaar

اظہار

«اظہار» احمد ندیم قاسمی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہےتو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا

بے نیازی سے مگر کانپتی آواز کے ساتھتو نے گھبرا کے مرا نام نہ پوچھا ہوتا

تیرے بس میں تھی اگر مشعل جذبات کی لوتیرے رخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا

یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب و ہوا کی باتیںاپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو تو پرکھا ہوتا

یوں ہی بے وجہ ٹھٹکنے کی ضرورت کیا تھیدم رخصت میں اگر یاد نہ آیا ہوتا

تیرا غماز بنا خود ترا انداز خرامدل نہ سنبھلا تھا تو قدموں کو سنبھالا ہوتا

اپنے بدلے مری تصویر نظر آ جاتیتو نے اس وقت اگر آئنہ دیکھا ہوتا

حوصلہ تجھ کو نہ تھا مجھ سے جدا ہونے کاورنہ کاجل تری آنکھوں میں نہ پھیلا ہوتا

— احمد ندیم قاسمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں