11 اشعار

تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے

Teri guftaar mein to pyaar ke tewar kam the

تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے

«تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے» احمد ندیم قاسمی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھےکبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے

لمس کے دم سے بصارت بھی، بصیرت بھی ملیچُھو کے دیکھا تو جو پتھر تھے نرے ریشم تھے

تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیںمیرے گھر کے یہی ہیرے تھے، یہی نیلم تھے

برف گرماتی رہی، دھوپ اماں دیتی رہیدل کی نگری میں جو موسم تھے، ترے موسم تھے

مری پونجی مرے اپنے ہی لہو کی تھی کشیدزندگی بھر کی کمائی میرے اپنے غم تھے

آنسوؤں نے عجب انداز میں سیراب کیاکہیں بھیگے ہوئے آنچل، کہیں باطن نم تھے

جن کے دامن کی ہوا میرے چراغوں پہ چلیوہ کوئی اور کہاں تھے وہ مرے ہمدم تھے

میں نے پایا تھا بس اتنا ہی صداقت کا سُراغدُور تک پھیلتے خاکے تھے، مگر مبہم تھے

میں نے گرنے نہ دیا مر کے بھی معیارِ وقارڈوبتے وقت مرے ہاتھ مرے پرچم تھے

میں سرِ عرش بھی پہنچا تو سرِ فرش رہاکائناتوں کے سب امکاں مرے اندر ضم تھے

عمر بھر خاک میں جو اشک ہوئے جذب ندیمبرگِ گل پر کبھی ٹپکے تو وہی شبنم تھے

— احمد ندیم قاسمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں