گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے
کلام: انعام اللہ خاں یقین
گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیےزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیے
تبسم میں جو اس کا منہ کھلا دل بندھ گیا ووہیںمرا دل لے گیا ہنستے ہی ہنستے یار کیا کہیے
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیےزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیے
تبسم میں جو اس کا منہ کھلا دل بندھ گیا ووہیںمرا دل لے گیا ہنستے ہی ہنستے یار کیا کہیے
تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبتنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبت
یہ جیوے ہجر میں وہ وصل میں بھی جی نہیں سکتاتکلف بر طرف بلبل کو پروانے سے کیا نسبت
تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھےکبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے
لمس کے دم سے بصارت بھی، بصیرت بھی ملیچُھو کے دیکھا تو جو پتھر تھے نرے ریشم تھے