5 اشعار

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے

Hum apne aap mein rehte hain dam mein dam jaise

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسےہمارے ساتھ ہوں دو چار بھی جو ہم جیسے

کسے دماغ جنوں کی مزاج پرسی کاسنے گا کون گزرتی ہے شام غم جیسے

بھلا ہوا کہ ترا نقش پا نظر آیاخرد کو راستہ سمجھے ہوئے تھے ہم جیسے

مری مثال تو ایسی ہے جیسے خواب کوئیمرا وجود سمجھ لیجئے عدم جیسے

اب آپ خود ہی بتائیں یہ زندگی کیا ہےکرم بھی اس نے کئے ہیں مگر ستم جیسے

— اجمل سراج