5 اشعار

کیا کہے گا کبھی ملنے بھی اگر آئے گا وہ

Kya kahay ga kabhi milne bhi agar aaye ga woh

کیا کہے گا کبھی ملنے بھی اگر آئے گا وہاب وفاداری کی قسمیں تو نہیں کھائے گا وہ

ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کو بھلا سکتے ہیںوہ سمجھتا تھا ہمیں بھول نہیں پائے گا وہ

کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھایاد بن جائے گا وہ خواب نظر آئے گا وہ

سب کے ہوتے ہوئے اک روز وہ تنہا ہوگاپھر وہ ڈھونڈے گا ہمیں اور نہیں پائے گا وہ

اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجملؔاب وہ تنہا تو نہ ہوگا جو ٹھہر جائے گا وہ

— اجمل سراج